دارالاسلام اور دارالحرب کے احکامات

دارالاسلام اور دارالحرب کے احکامات کو خلط ملط کردینا

عصر حاضر میں جس طرح اقامت دین کے فریضہ کی ادئیگی کے لئے کھڑی ہونے والی اکثر جماعتیں اس بات کا تعین نہیں کرتیں کہ وہاں حکومت کرنے والے کی حیثیت کیا ہے ؟بالکل اسی طرح وہ اس بات کا تعین کرنے کی زحمت بھی گورانہیں کرتیں کہ جس سرزمین پر وہ یہ تحریک برپا کرنے جارہے ہیں اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟آیا وہ دار الاسلام ہے یا دارا لحرب؟ کیونکہ احکام شرعیہ کا بہت بڑا حصہ اس بات پر موقوف ہے کہ آیا ان پر عمل کرنے والے دار الاسلام میں ہیں یا دارالحرب میں ۔چناچہ مفتی اعظم پاکستان محمد شفیع رحمہ اللہ اس مسئلہ کی ضرورت و اہمیت پرکلام کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’جو لوگ فقہ اور فتاوی سے مناسبت رکھتے ہیں اُن پر یہ بات مخفی نہیں کہ تقریباً فقہ کے تمام ابواب نماز ،روزہ ،حج ،زکوۃ ،نکاح ،طلاق اور بالخصوص بیع وشراء، اجارہ و دیگر معاملات میں سینکڑو ں مسائل شرعیہ ہیں (ایسے ہیں جن کا حکم )دار الاسلام کے لئے کچھ (اور )ہے اور دار الحرب کے لئے دوسرا۔اس لئے اگر یوں کہاجائے کہ احکام شرعیہ کا ایک بہت بڑا حصہ اس پر موقوف ہے کہ ان پر عمل کرنے والے جس ملک میں آباد ہیں، پہلے اس کا دارالاسلام یا دار الحرب ہونا متعین کریں تو بالکل صحیح و درست ہے‘‘۔(’’فیصلۃ الاعلام فی دار الحرب ودار الاسلام‘‘۔بحوالہ تالیفات رشیدیہ ،ص:654،ادار ہ اسلامیات لاہور)
لہٰذا اس سے پہلے کہ ہم کسی خطۂ زمین کو دار الاسلام یا دار الحرب قرار دیں ، ہم سلف و صالحین کے فتاویٰ کی روشنی میں شرعاً ان دونوں اصطلاحات کو سمجھ لیتے ہیں۔
دارالاسلام سے مراد:
فقہا ء نے باتفاق کسی بھی علاقے کو دار الاسلام قرار دینے کے لئے دو شرطیں ہی بیان کی ہیں:
(۱)حاکم کا مسلمان ہونا ۔ (۲)احکام اسلامی کا اجراء
امام سرخسی رحمہ اللہ نے لکھا ہے:
’’وبمجردالفتح قبل اجراءاحکام الاسلام لاتصیر دارلاسلام‘‘(مبسوط سرخسی ،ص۳۲،ج10)
’’ صرف فتح کے بعد احکامِ اسلام کے اجرا ء کے بغیر دارالحرب، دارلاسلام میں تبدیل نہیں ہوتا۔‘‘
’’وکذلک لو فتح المسلمون أرضاً من ارض العدو حتی صارت فی ایدیھم وھرب اھلھا عنھا۔لانھا صارت دار الاسلام بظھور احکام الاسلام فیھا‘‘۔(شرح السیر الکبیر؛ج:2ص:185)
’’اسی طرح اگر مسلمان دشمنوں کی کوئی زمین فتح کرلیں یہاں تک کہ وہ مسلمانوں کے ماتحت ہوجائے اور اس کے رہنے والے بھاگ جائیں (یعنی مغلوب ہوجائیں)تویہ علاقہ احکام اسلام کے ظاہر ہونے سے دار الاسلام قرارپائے گا‘‘۔
علامہ ابن عابدین شامی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’دار الحرب تصیر دارالاسلام باجراءاحکام اھل الاسلام فیھا‘‘(فتاویٰ ابن عابدین شامی ۔ص175،ج4)
’’اور دارالحر ب میں اہل ِ اسلا م کے احکامات جاری ہونے سے وہ دارالاسلام میں تبدیل ہو جاتا ہے ۔‘‘
امام علاء الدین ابوبکر بن مسعود کاسانی متو فی a 587ھ ،اپنی شہرہ آفاق تصنیف ’’بدائع الصنائع‘‘میں فرماتے ہیں:
’’لاخلاف بین اصحابنافی ان دارالکفر تصیر دارالاسلام لظھوراحکام الاسلام فیھا‘‘(بدائع الصنائع ۔ص130،ج7)
’’ہمارے علماءمیں اس بات کا کسی میں اختلاف نہیں ہے کہ دارالکفر، دارلاسلام میں تبدیل ہوتا ہے اس میں اسلامی احکام ظاہر ہونے سے۔‘‘
’’صارت الدار دارالاسلام بظھوراحکام الاسلام فیھا من غیر شریطةاخری‘‘ (بدائع الصنائع۔ص131،ج7)
’’دارالکفر،دارالاسلام میں تبدیل ہوتا ہے اس میں اسلامی احکام جاری ہونے سے دوسری کسی شرط کے بغیر۔‘‘
دار الحرب سے مراد:
جس طرح دار الحرب کا کوئی بھی علاقہ اس وقت تک دار الاسلام قرار نہیں پاسکتا جب تک اس میں مکمل اسلامی احکام کا اجراء اور ظہور نہ ہوجائے۔اسی طرح کوئی بھی علاقہ جوکہ دار الاسلام کاحصہ ہووہ اس وقت تک دار الحرب میں تبدیل نہیں ہوتاجب تک کہ اس میں کچھ نقائص پیدا نہ ہوجائیں۔چنانچہ علامہ ابن عابدین شامی رحمہ اللہ اپنی شہرہ آفاق کتاب ’’رد المختار ‘‘میں لکھتے ہیں :
((لا تصیردار الاسلام دارالحرب الا بأمور ثلا ثة باجراء احکام ا ھل الشرک وبا تصالھابدارالحرب، وبان لایبقی فیھا مسلم او ذمی امنا بالامان الاول علی نفسہ))(فتاویٰ شامی ،ص174،ج4)
’’دارالاسلام دارالحرب میں تبدیل نہیں ہوتا مگر تین چیزوں کے پائے جانے سے :
(۱)………اہل شرک کے احکام جاری ہونے سے اور
(۲)………اس شہر کا دارالحرب سے متصل ہونے سے اور
(۳)………یہ کہ وہاں کوئی مسلمان یا ذمی اپنی ذات اور دین کے اعتبار سے امن اول سے مامون رہے۔‘‘
یہاں اہل شرک سے اہل کفر مراد ہیں یعنی اہل کفر کے احکام علی الاعلان بلاروک ٹوک جاری ہوں ، احکام اسلام وہاں جاری نہ ہوں اور دارالحرب سے متصل ہونے سے مراد یہ ہے کہ دونوں’’دار‘‘کے درمیان دار الاسلام کاکوئی اورعلاقہ موجود نہ ہو اور امن اول سے مراد یہ ہے کہ مسلمانوں کو اسلام کے سبب اور ذمی کو عہدِذمہ کی سبب کفار کے غلبے سے پہلے جو امن تھا ،وہ امن کفار و مرتدین کے غلبہ کے بعد مسلمان اور ذمی دونوں کے لئے باقی نہ رہے۔یہ رائے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کی ہے۔لیکن امام ابو یوسف رحمہ اللہ اور امام محمدرحمہ اللہ کے نزدیک مذکورہ امور میں سے صرف ایک ہی امر سے دارالحرب بن جاتا ہے یعنی دارالاسلام میں صرف احکام کفر جاری ہونے سے وہ دارالحرب بن جاتا ہے اور یہی قول فقہ حنفی میں قرین قیاس ہے۔جیساکہ
فتاویٰ عالمگیری میں ہے :
’’وقال ابو یوسف رحمةاللّٰہ علیہ ومحمد رحمة اللّٰہ علیہ بشرط واحد لاغیر وھواظھار احکام الکفر وھو القیاس‘‘۔(فتاوی عالمگیری بحوالہ تالیفات رشیدیہ بعنوان ’’فیصلۃ الاعلام فی دار الحرب ودار الاسلام‘‘۔ص:667)
’’اور امام ابویوسف اور امام محمد ;فرماتے ہیں کہ صرف ایک شرط محقق ہونے سے دار الحرب کا حکم کردیا جائے گا اور وہ شرط یہ ہے کہ احکام کفر کو علی الاعلان جاری کردیں اور قیاس (بھی فقہ حنفی کے نزدیک)اسی کا متقاضی ہے‘‘۔
علامہ سرخسی رحمہ اللہ نے اس کی وضاحت اس طرح فرمائی:
’’وعن ابی یوسف و محمد رحمھما اللّٰہ تعالیٰ اذااظھروا احکام الشرک فیھا فقد صارت دارھم دار حرب ،لأن البقعة انما تنسب الینا او الیھم باعتبار القوة والغلبة،فکل مقضع ظھر فیھا حکم الشرک فالقوة فی ذلک الموضع للمشرکین فکانت دار حرب وکل موضع کان الظاھر فیہ حکم الاسلام فالقوة فیہ للمسلمین‘‘(مبسوط سرخسی،ج:12ص:258۔بدائع الصنائع۔ص194،ج7)
’’امام ابو یوسف اور امام محمد ;سے منقول ہے کہ اگر دارالاسلام کے کسی علاقہ میں(حکام)احکام شرک کا اظہار کردیں (یعنی علی الاعلان نافذ کردیں)تو ان کا دار، دارالحرب ہوگا۔اس لیے کہ کوئی بھی علاقہ ہماری یا ان (کفار)کی جانب قوت اور غلبہ ہی کی بنیاد پر منسوب ہوتاہے۔جس جگہ احکام شرک نافذ ہوجائیں تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اس جگہ مشرکین کو اقتدار اور قوت حاصل ہے ،اس لحاظ سے وہ ’’دار الحرب‘‘ ہے۔اس کے برعکس جس جگہ ’’حکم ‘‘، اسلام کا ظاہر اورغالب ہو تووہاں گویامسلمانوں کو اقتدار حاصل ہے(اور وہ دار الاسلام ہے)‘‘۔
دار الاسلام اور دارالحرب کی شرعی تعریفات جاننے کے بعدان لوگوں کے شبہات کاازالہ ازخودہوجاتاہے کہ جو پاکستان کو دارا لاسلام سمجھتے ہوئے اس میں دار الاسلام کے احکامات لاگو کرتے ہوئے یہاں ’’قتال فی سبیل اللہ ‘‘کو شرعی طورپر ناجائز تصور کرتے ہیں۔جیساکہ قائد جمعیت بارہا کہہ چکے ہیں کہ :
’’ہم پاکستان میں مسلح جہاد کو شرعی طور پردرست نہیں سمجھتے ‘‘۔
لیکن یہ بات واضح ہے کہ پاکستان اوّل دن سے کسی صورت بھی’’دار الاسلام ‘‘کی تعریف پر صادق نہیں آیا کیونکہ یہاں پر کلی طور پر کبھی بھی احکام اسلامی کا مکمل اجراء ہوا ہی نہیں بلکہ الٹا ’’آئین ودستور ‘‘کے نام پر احکامِ کفرو شرک کا نفاذ ہی بڑھتا چلاجارہا ہے۔لہٰذا آج پاکستان ’’دارالحرب‘‘کی تعریف پر صادق آتا ہے،اور جو جگہ دارالحرب قرار پائے تو اس جگہ کے احکامات یکسر بدل جاتے ہیں اور وہاں احکام اسلامی کے اجراء کے لئے’’قتال فی سبیل اللہ ‘‘فرض عین ہوجاتاہے ، جس سے اہل علم بخوبی واقف ہیں۔ ﴿ مِّنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ﴾اندھیروں سے روشنی کی طرف صفحہ نمبر: 126

Advertisements

جواب دیں

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Connecting to %s